ابنا: حوزہ علمیہ کے استاد حجت الاسلام والمسلمین سید عبدالله فاطمی نیا نے مسجد اعظم میں تقریر کرتے ہوئے بیان کیا: جب قرآن کریم، اھل بیت علیہ السلام کی روایت اور بزرگ فقہا دین کی طرف توجہ کرتے ہیں تو مشاھدہ ہوتا ہے کہ دین اسلام ظاھر اور باطن دونوں کا مالک ہے۔
انہوں نے وضاحت کی: جو لوگ یہ فکر کرتے ہیں کہ دین اسلام صرف ظاھر پر تمام ہوتا ہے اس کو علمی اعتبار سے ملعون شخص میں شمار کیا جاتا ہے۔
حوزہ علمیہ کے نمایا خطیب نے اس بیان کے ساتھ کہ صحیح راستہ کا حصول دین میں اعتدال کے ساتھ ہونے سے حاصل ہوتا ہے اظہار کیا: جو شخص دین میں اعتدال نہیں رکھتا ہے وہ گمراہ ہو جاتا ہے جیسے اسماعیلیہ فرقہ جنہوں نے دین کو تاویل کی ہے اور شیعت سے منحرف ہو گئے اور دین سے بھی سے خارج ہو گئے۔
انہوں نے بیان کیا: قرآن اور روایت سے جو حاصل ہوتا ہے یہ ہے کہ دین اسلام ظاھر اور باطن دونوں کا مالک ہے اور اگر اسلام ظاھر پر تمام ہوتا تو امام حسین علیہ السلام قیام نہیں کرتے کیونکہ اگر اسلام صرف ظاھر پر ہوتا تو امام حسین علیہ السلام کا قیام بے معنی ہوتا۔
حجتالاسلام والمسلمین فاطمینیا نے امام سجاد علیہ السلام سے ایک روایت (جو کہ امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے ھم لوگوں سے وصیت کی ہے کہ علم کے باطن کو جاہلوں کو بیان نہ کرو ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اظہار کیا: اگر دین میں باطن نہیں ہوتا تو اھل بیت علیہ السلام اس طرح کی گفت و گو نہیں کرتے کیونکہ علوم کو مخفی رکھنا مثل صرف و نحو معنی نہیں رکھتا ہے۔
.....
/169